یادداشت

زیادہ دیکھے گئے موضوعات

ہم سے تعاون کریں

کیا چوتھی غزہ جنگ نزدیک ہے ؟


کیا چوتھی غزہ جنگ نزدیک ہے ؟

( ۰ Votes ) 

grey کیا چوتھی غزہ جنگ نزدیک ہے ؟

حالیہ دنوں میں ہارٹض، اسرائیل ٹو ڈے، واللا، یدیعوت آحارنوت جیسے صیہونی حکومت کے اہم اخـباروں نے  یہ خبر شائع کرکے کے کہ حماس  اپنی میزائیلی، سمندری اور چھاپہ مار توانائی کو مضبوط کرنے کے درپئے ہے، اسرائیل کے ساتھ حماس کی چوتھی جنگ کی پیشنگوئی کی ہے۔
 اسرائیلی ٹی وی چینل – ۱۰ نے ۲۴ اپریل ۲۰۱۶ کی اپنی رپورٹ میں غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوجیوں اور بلڈوزروں کی موجودگی نیز اس علاقے سے شہریوں کو انخلاء پر مبنی رپورٹ نشر کی اور ان اقدامات کو خاص فوجی کاروائی کا مقدمہ بتایا گیا جس کا مقصد حماس پر صیہونی حکومت کی حتمی کامیابی اور غزہ پر اسرائیل کا مکمل قبضہ ہے۔   
یہ ایسی حالت میں ہے کہ ۱۹ اپریل ۲۰۱۶ کو صیہونی حکومت نے مضبوضہ  اشکول شہر کے نزدیک حماس کی سب سے طولانی سرنگ کا انکشاف کیا  جس سے صیہونی حکام کی تشویش میں اضافہ ہو گیا۔ اسی تناظر میں اسرائیل کے تعمیراتی امور کے سابق وزیر اور جنوبی علاقے کے کمانڈر یواف گلنت نے غزہ پٹی میں حماس کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی مہم شروع کئے جانے کا مطالبہ کیا۔ اس حکومت کی تشکیل کے وقت سے ہی صیہونی حکام کی ہمیشہ سے اپنی سیکورٹی اور فلسطینوں کے تمام مسائل پر نظر رکھنے کی کوشش رہی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ  صیہونی معاشرہ بری طرح بکھراؤ کا شکار ہے۔  کچھ دن پہلے ہی ہی اسمیت نامی ادارے سے سروے جاری کیا۔ یہ سروے فلسطینوں کی جانب سے چاقوؤں سے حملے شروع کئے جانے کے چھ مہینے بعد اسرائیل کی داخلی سیکورٹی کے بارے میں لیا گیا۔  اس اعداد و شمار میں ۵۶ فیصد صیہونیوں نے کہا کہ وہ فلسطینوں کے حملوں کے خوف سے اپنی روزانہ کی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ پا رہے ہیں جبکہ ۵۶ فیصد اسرائیلوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ مہینوں کے دوران ان کی  داخلی سیکورٹی کی سطح بہت زیادہ کم ہوگئی ہے۔
در ایں اثنا اس سروے میں شامل ایک شخص گالیت نے جو یافا کی سڑک پر آزاد کام کرتا ہے، کہا کہ اب تیسرا انتفاضہ شروع ہو چکا ہے اور یہ کہنا چاہئے کہ گزشتہ انتفاضہ ہمارے لئے بدترین تھا۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ مقبوضہ علاقے میں ایک طولانی سرنگ کے انکشاف نے صیہونی حکوم اور کالونیوں کے رہنے والوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔  اسی بنا پر اسرائیلی فوج نے حماس کے احتمالی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے غزہ کی سرحد کے قریب فوجی مشقیں کیں۔ یہ فوجی مشقیں ۲۰۱۴ سے اب تک کی سب سے بڑی فوجی مشقیں تھیں  جس میں حماس کے فرضی حملوں کو نشانہ بنانے اور اس کو پسپا کرنے کے راستوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس دفعہ صیہونی میڈیا بھی پروپیگینڈے میں پیچھے نہیں رہا اور اس نے اپنی متعدد رپورٹوں میں اس بات پر تاکید کی کہ اس بار کا حملہ دفاعی نہیں بلکہ ہجومی ہوگا۔  
یہ ایسی حالت میں ہے کہ صیہونی فوج کے انفارمیشن شعبے کے کمانڈر ہرتسی ہالیوی نے کنسٹ کی خارجہ کمیٹی کے اجلاس میں کہا کہ غزہ کی حالت بدتر ہو رہی ہے اور وہاں کے لوگوں کا غصہ اسرائیل کے خلاف پھوٹنے ہی والا ہے۔ ۲۰۱۴ کی جنگ کے بعد غزہ کی تعمیراتی نو کا کام بہت سستی سے جاری ہے اور غزہ کے مختلف علاقوں کی تعمیر نو، اسرائیل کے ساتھ جنگ پر منتج ہو سکتی ہے۔ غزہ کی سخت صورتحال کے باوجود حماس، اسرائیل سے جنگی کی پوزیشن میں نہیں ہے اور وہ غزہ پٹی کے دیگر گروہوں پر تسلط قائم کرکے سرحدی علاقوں کے حالت کو کشیدہ ہونے سے روکنے کی کوشش کررہی ہے۔
بہرحال  یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ جب تک اسرائیل غزہ کے محاصرے کو کم کرنے کی کوشش نہیں کرے گا تو حماس کے پاس بھی اس حکومت سے جنگ کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے اور اس بات کے مد نظر کے حماس کی فوجی ونگ مضبوط اور طاقتور ہے وہ سیاسی رہنماؤں سے فیصلے کی قوت لے کے غزہ کے محاصرے کے خاتمے کے لئے اقدامات انجام دے سکتی ہے۔  ان حالات میں ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ  صیہونی حکومت غزہ کی ماضی کی جنگوں کے تجربات سے وسیع پیمانے پر فوجی اقدامات کرے اور ممکن ہے کہ چھوٹی موٹی جھڑپوں کے ذریعے یہ دکھانے کی کوشش کرے کہ داخلی سیکورٹی پوری طرح کنٹرول میں ہے۔

اضافه کردن نظر











grey کیا چوتھی غزہ جنگ نزدیک ہے ؟
تازه سازی


sharethis کیا چوتھی غزہ جنگ نزدیک ہے ؟

جواب ارسال کریں

آپ کا ای میل (نشر نہیں کیاجاٗے گا).
لازمی پر کرنے والے خانوں میں * کی علامت لگا دی گئی ہے.

*


− یک = 7

رابطہ کیجیے | RSS |نقشہ سائٹ

اس سائٹ اسلام ۱۴ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں،حوالے کے ہمراہ استفادہ بلامانع ہے