یادداشت

زیادہ دیکھے گئے موضوعات

ہم سے تعاون کریں

غزہ پر ناجائز صیہونی حکومت کی بدترین جارحیت، پورا کشمیر سراپا احتجاج

سبط محمد حسن // سرینگر کشمیر

دنیا کے کئی ممالک کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر کے طول و عرض میں اسرائیلی ننگی بربریت و جارحیت کے خلاف پیر کے روز سماج کے ہر ایک طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے سڑکوں پر نکل کر صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے اقوام عالم کی خاموشی کو مجرمانہ قرار دیا۔ مظاہرین جن میں طلبہ ، سرکاری ملازمین ، وکلاء ، صحافی اور تاجر شامل تھے ، نے اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت تمام عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ پر اسرائیلی فوج کے ہاتھوں تباہ کن بمباری کو فوری طور پر روکنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں جبکہ مظاہرین نے کئی جگہوں پر اسرائیلی پرچم کو نذر آتش کیا۔اس دوران پولیس نے سونہ وار سرینگر میں واقع اقوام متحدہ کے فوجی مبصر کے دفتر کی جانب مظاہرین کی پیش قدمی کو ناکام بناتے ہوئے درجنوں مظاہرین کو حراست میں لیا جبکہ مولانا آزاد روڑ پر معمولی نوعیت کے پتھراؤ کے نتیجے میں کچھ دیر کیلئے سول لائنز علاقوں میں افراتفری کا ماحول بھی دیکھنے کو ملا۔

مظاہرین نے انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر اقوام عالم کی مجرمانہ خاموشی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ اس سلسلے میں سرکاری ملازمین کی تنظیم ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے ایک احتجاجی جلوس بھی نکالا گیا جس کے دوران شرکاء نے فلسطین کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیلی بربریت کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف نعرے درج تھے ۔مظاہرین ’’ فلسطینی مسلمانوں ہم تمارے ساتھ ہیں، اسرائیلی دہشت گردی مردہ باد مردہ باد ، یہودی دہشت گردی مردہ باد مردہ باد ، قتل عام بند کرو بند کرو ‘‘ کے نعرے بلند کر رہے تھے جبکہ مظاہرین نے اسرائیلی پرچم کو بھی نذر آتش کردیا ۔ اس موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ملازمین انجمن کے صدر عبدالقیوم وانی نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں معصوم انسانوں کا زیاں ہو رہا ہے اور بدترین انسانی حقوق کی پامالی پر اقوام عالم نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت و بربریت کا کوئی انسانی جواز نہیں بنتا ہے اور صرف طاقت کے نشے میں چور اسرائیلی فوج معصوم ومظلوم فلسطینی عوام کا قتل عام کر رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اسرائیل دہشت گردی کو بہانہ بنا کر خود ایک ایسی دہشت گردی کا مرتکب ہو رہا ہے جس کی مثال شاید ہی دنیا کے کسی اور خطے میں دیکھنے کو ملے۔ ملازمین انجمن کے صدر نے اقوام عالم پر زور دیا ہے کہ فلسطینی عوام کے قتل عام کو روکنے کیلئے فوری طور پر سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔ ملازمین نے اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی اور تمام بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطین میں ہو رہے قتل عام پر روک لگانے کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔اس موقع پر ملازمین نے سونہ وار میں واقع اقوام متحدہ کے فوجی مبصر کے دفتر کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے اس کوشش کو ناکام بنادیا۔ ملازمین نے جونہی پریس کالونی سرینگر سے اقوام متحدہ کے فوجی مبصر کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے ناکام بناتے ہوئے ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدر عبدالقیوم وانی سمیت ۵۰ ملازمین کو حراست میں لیا ۔

اس دوران شہر کے مختلف علاقوں سے طلباء و طالبات نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاجی جلوس برآمد کئے۔ شہر خاص میں واقع اسلامیہ کالج ، گاندھی میموریل کالج ، ایم پی ہائی اسکینڈری اسکول کے علاوہ دیگر تعلیمی ادروں میں زیر تعلیم طلبہ نے ایک احتجاجی جلوس نکالا اور لال چوک کی جانب پیش قدمی کی ۔ طلبہ نے پریس کالونی سرینگر میں آ کر اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینی عوام پر ہورہے ظلم و جبر کے خلاف اپنا احتجاج درج کیا ۔ اس دوران وومنزل کالج ، امرسنگھ کالج ، ایس پی کالج اور ایس پی ہائیر اسکینڈری اسکول میں زیر تعلیم طلباء وطالبات نے بھی اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنا احتجاج درج کیا ۔ طلبہ نے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اقوام عالم پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر قتل ناحق کو روکنے کیلئے اسرائیلی فوج کی ننگی جارحیت کو لگام دیں۔ اس موقع پر طلبہ نے سونہ وار سرینگر میں واقع اقوام متحدہ کے فوجی مبصر کے دفتر کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے ریگل چوک میں اُن کی اس کوشش کو ناکام بناتے ہوئے لاٹھی چارج کیا ۔ اس موقع پر ریگل چوک اور اس کے گرد و نواح میں کچھ دیر کیلئے افراتفری پھیل گئی جبکہ معمولی نوعیت کا پتھراؤ کا واقعہ بھی پیش آیا تاہم اس میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔

دریں اثناء پلوامہ میں بھی طلبہ نے اسرائیلی بربریت اور جارحیت کے خلاف احتجاجی جلوس نکالے ۔

ادھر مین اسٹریم جماعت عوامی متحدہ محاذ نے بھی اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنا احتجاج درج کیا جبکہ ادھر ڈگری کالج سوپور میں زیر تعلیم طلبہ نے بھی پیر کے روز ایک احتجاجی مارچ نکالا جس دوران انہوں نے قصبہ سوپور کے کئی بازاروں کا مارچ کرتے ہوئے اسرائیلی ننگی جارحیت پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ۔ طلبہ نے بتایا کہ اسرائیل طاقت کے نشے میں چور مظلوم فلسطینی عوام پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور اقوام عالم خاموشی کے ساتھ اس کا نظارہ نظارہ کر رہی ہیں۔ اس موقع پر سٹیٹ بینک آف انڈیا کی شاخ پر تعینات سی آر پی ایف کے اہلکاروں پر مظاہرین نے ہلکا پتھراؤ بھی کیا جنہیں پولیس نے تعاقب کر کے منتشر کر دیا۔ دریں اثناء اننت ناگ میں ورکنگ جرنلسٹ ایسو سی ایشن کے بینر تلے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے حوالے سے ایک مارچ برآمد ہوا۔ اس میں شامل شرکاء نے معصوم فلسطینی عوام کے قتل عام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اسرائیلی جارحیت کو روکنے کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ 

دوسری جانب اسرائیلی بربریت کے خلاف پارلیمنٹ میں اُس وقت گونج سنائی دی جب غزہ پر اسرائیلی بربریت کے خلاف حکومت ہند کی جانب سے خاموشی اختیار کرنے پر ریاست میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کے ممبران نے ایوان پارلیمنٹ سے بطور احتجاج واک آوٹ کیا۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اسرائیلی فوج معصوم فلسطینی عوام کا قتل عام کر رہی ہے اور حکومت ہند نے اس حوالے سے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔ لوک سبھا کی کارروائی کے دوران پی ڈی پی صدر و ممبر پارلیمنٹ محبوبہ مفتی اور طارق حمید قرہ پیر کے روز پارلیمنٹ کے اجلاس میں اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوک سبھا اسپیکر پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف اتفاق رائے سے ایک مذمتی قرارداد پاس کریں۔ محبوبہ مفتی نے لوک سبھا کے اجلاس کے دوران اسپیکر سے مخاطب ہوکر کہا کہ  ۸ جولائی مسلسل غزہ پر اسرائیلی تباہ کن بمباری جاری ہے جس کے نتیجے میں معصوم انسانی جانوں کا زیاں ہو رہا ہے ۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ اسرائیلی فوج طاقت کے نشے میں چور ہوکر نہتے فلسطینی عوام کا قتل عام کر رہی ہے اور یہ کہ اس قتل عام پر خاموشی کسی بھی طور اختیار نہیں کی جاسکتی۔ اس موقع پر محبوبہ مفتی اور طارق حمید قرہ نے یک زبان ہوکر لوک سبھا اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ ایوان لوک سبھا اتفاق رائے سے غزہ پر ہو رہے اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایک مذمتی قرار داد پاس کرے لیکن اسپیکر کی جانب سے جواب نہ ملنے کے بعد پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور طارق حمید قرہ نے بطور احتجاج حکومت ہند کی جانب سے غزہ صورتحال پر خاموشی اختیار کرنے پر ایوان سے واک آوٹ کیا ۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ دنیا کا سب سے بڑا اور عظیم جمہوری ملک بھارت اسرائیلی ننگی جارحیت پر کسی بھی طور خاموشی اختیار نہیں کرسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ۸ جولائی سے اب تک غزہ پر اسرائیلی فوج کی جانب سے ہورہی تباہ کن اور بلا جواز بمباری کے نتیجے میں ۱۷۲ معصوم اور مظلوم فسلطینی جاں بحق ہوئے جن میں بیشتر بچے شامل ہیں جبکہ سینکڑوں لوگ شدید زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے غزہ پر اسرائیلی بمباری کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو فلسطینی عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرنا چاہیے۔ اُن کا کہنا تھا کہ بھارت کی یہ تاریخ رہ چکی ہے کہ جب کبھی بھی فلسطینی عوام پر ظلم و جبر کے پہاڑ ڈھائے گئے تو بھارت کی لیڈر شپ نے اُس پر اپنی آواز بلند کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہم کسی بھی طور گاندھی کے ملک سے یہ امید نہیں رکھ سکتے ہیں کہ وہ اسرائیلی ننگی بربریت پر خاموشی اختیار کرے۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ لوک سبھا میں غزہ کی موجودہ تشویشناک صورتحال کے حوالے سے توجہ دلاؤ تحریک پیش کریں گی۔ 

sharethis غزہ پر ناجائز صیہونی حکومت کی بدترین جارحیت، پورا کشمیر سراپا احتجاج

جواب ارسال کریں

آپ کا ای میل (نشر نہیں کیاجاٗے گا).
لازمی پر کرنے والے خانوں میں * کی علامت لگا دی گئی ہے.

*


2 × پنج =

رابطہ کیجیے | RSS |نقشہ سائٹ

اس سائٹ اسلام ۱۴ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں،حوالے کے ہمراہ استفادہ بلامانع ہے