یادداشت

زیادہ دیکھے گئے موضوعات

ہم سے تعاون کریں

نریندر مودی بارہ اگست کو کشمیر میں

 

 

 

۰۶سخت ترین سیکورٹی حصار کے بیچ وزیر اعظم ہند نریندر مودی۱۲اگست کو ریاست کشمیر کے دورے پر پہنچ رہے ہیں جس کے دوران وہ سرینگر لیہ ٹرانسمیشن لائن کی سنگ بنیاد رکھنے کے علاوہ لیہ اور کرگل میں۲بجلی پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے۔وزیر اعظم ہند نریندر مودی سخت ترین حفاظتی حصار میں ۱۲اگست کو لداخ کے دورے پرپہنچ رہے ہیں جس کے دوران وہ وہاں پر ۲اہم بجلی پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے ۔وزارت عظمیٰ کی کرسی سنبھالنے کے بعد نریندر مودی کا یہ جموں کشمیر میں دوسرا دورہ ہے جبکہ اس سے قبل انہوں نے کٹرا میں ریلوے لائن اور اوڑی میں بجلی پروجیکٹ کا افتتاح کیا تھا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں وزیر اعظم کے دفتر میں پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا اور این ایچ پی سی کو مطلع کیا ہے کہ ممکنہ طور پر وزیر اعظم سرینگر لیہہ ٹرانسمشن لائن کی سنگ بنیاد اور چٹک و نیموبزگوبجلی پروجیکٹوں کا افتتاح ۱۲اگست کو کریں گے ۔بتایا جاتا ہے کہ لداخ کے حوالے سے یہ تینوں پروجیکٹ اہم ہیں جبکہ ٹرانسمشن لائن کا ایک حصہ ناردرن گرڈ سے جڑ جانے کے بعد این ایچ پی سی خطے میں بجلی کی قلت کو پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ سرینگرلیہہ ٹرانسمشن لائن کا اعلان سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے۲۰۰۳کے دوران اُس وقت کیا تھا جب مرکز میں ان کی سرکار تھی اور وہ۳دنوں کے دورے پر ریاست پہنچے تھے ۔مذکورہ ٹرانسمشن لائن جموں کشمیر کواقتصادی پیکیج فراہم کرنے کا حصہ تھی جبکہ اس وقت مذکورہ ٹرانسمشن لائن کو نصب کرنے کیلئے جو پروجیکٹ بنایا گیا تھا ،اس کیلئے ۳۰۰کروڑ روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا ۔سابق وزیر اعظم کے اعلان کے بعد پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا نے اپنے تجربہ یافتہ عملے کو اس ٹرانسمشن لائن کے جائزے پر مامور کیا تھا اور کم از کم وقت میں اس حوالے سے ایک مفصل پروجیکٹ رپورٹ ترتیب دینے کی ہدایت دے دی گئی تھی ۔تاہم بتایا جاتا ہے کہ اس کے بعد اور کوئی مزید کارروائی نہیں کی گئی اور یہ رپورٹ سرکاری دفتروں میں حکومت تبدیل ہونے کے بعد گرد ہی کھاتی رہی ۔۷برسوں کی تاخیر کے بعد ایک مرتبہ پھر مرکزی سرکار کی توجہ اس جانب مبذول ہوئی جبکہ لداخ خطے کی لیڈر شپ کے دباؤ کے بعد مرکزی سرکار نے ۲۰۱۰میں ایک مرتبہ پھر اس پروجیکٹ پر غور کرنا شروع کیا ۔یو پی اے سکینڈ میں وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے اس دوران اپنی دو روزہ دورے کے دوران پھر سے اعلان کیا اور اس پروجیکٹ کیلئے فوری طور پر ۱۰۰کروڑ روپے واگزار کرنے کا اعلان کیا تاکہ جلد از جلد اس اہم و حساس پروجیکٹ پرکام شروع کیا جائے ۔لداخ کے عوام کو گزشتہ ۴برسوں کے دوران حیرانگی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وزیر اعظم کے اعلان کے بعد اس پروجیکٹ پر کام شروع نہیں کیا گیا اور سرینگر لیہہ ٹرانسمشن لائن مقامی لوگوں کیلئے قصہ پارینہ بن کے رہ گیا ۔سابق وزیر اعظم ہند اٹل بہاری واجپائی کے اعلان کے بعد اب ۱۰برسوں کی تاخیر سے بی جے پی کی سربراہی والی مرکزی سرکار نے ایک مرتبہ پھر اس پروجیکٹ پر کام کر نا شروع کر دیا اور اسی سلسلے کی ایک کڑی کے تحت۱۲اگست کو وزیر اعظم ہند نریندر مودی اس ٹرانسمشن لائن کی سنگ بنیاد ڈالیں گے ۔اٹل بہاری واجپائی کے وقت جہاں اس پروجیکٹ کی لاگت کا تخمینہ ۳۰۰کروڑ لگایا گیا تاہم اب بتایا جاتا ہے کہ اب اس پروجیکٹ کو۱۷۰۷کروڑ روپے کے خرچے سے پورا کیا جائے گا۔سرینگر لیہہ ٹرانسمشن لائن کیلئے۴سب اسٹیشن قائم کئے جائیں گے جن میں دراس، کرگل ، کھل تسی اورلیہہ شامل ہیں جبکہ ۳۳۰کلو میٹر لمبی ٹرانسمشن لائن ۲۲۰کلو واٹ سنگل سرکٹ پر مبنی ہو گی ۔ذرائع کے مطابق اس پروجیکٹ کو۴برسوں میں مکمل کیا جانا ہے جبکہ ۹کلو میٹر تک زیر زمین ترسیلی لائنیں بھی جوڑ دی جائیں گی تاکہ زوجیلا دھرے کے نزدیک ٹرانسمشن لائن کوبھاری برفباری کے دوران بچایا جا سکے ۔بتایا جاتا ہے کہ اس ٹرانسمشن لائن کیلئے خصوصی ٹاور بھی نصب کئے جائیں گے تاکہ وہ موسم کی مار جھیل سکے ۔۴۴میگاواٹ چتک ہائیڈروالیکٹرک پروجیکٹ کا افتتاح بھی ممکنہ طور وزیر اعظم ہند نریندر مودی کرگل میں اور ۴۵میگاواٹ نیموبزگوں ہائیڈروالیکٹرک پروجیکٹ کا افتتاح لیہہ میں کریں گے ۔

 

 

 

sharethis نریندر مودی بارہ اگست کو کشمیر میں

جواب ارسال کریں

آپ کا ای میل (نشر نہیں کیاجاٗے گا).
لازمی پر کرنے والے خانوں میں * کی علامت لگا دی گئی ہے.

*


چهار × = 4

رابطہ کیجیے | RSS |نقشہ سائٹ

اس سائٹ اسلام ۱۴ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں،حوالے کے ہمراہ استفادہ بلامانع ہے