یادداشت

زیادہ دیکھے گئے موضوعات

ہم سے تعاون کریں

اسرائیل کی مذمت میں آسیان کابیان

جنوب مشرقی ایشیا کے  ممالک کی  تعاون تنظم کے پریس سنٹر نے آج گیارہ اگست کو اس تنظیم کے وزرائے  خارجہ کے اجلاس کو بیان کو  شائع کیا ہے ۔

۔ ۱۶۶ شقوں پرمبنی  اس بیان میں علاقائی مسائل جیسے جنوبی چین کا سمندری چیلنج، منشیات کی اسمنگلنگ ،انسانی  حقوق ، آلودگی ہوا نیز بین  الاقوامی مسائل کے بارے میں بحث وگفتگو اور تبادلہ خیال کیا گیا ۔

 اہم بین ااقوامی مسائل  میں غزہ کے نہتے اور بے پناہ عوام کےخلاف اسرائیل کے وحشیانے حملے اور مشرق وسطی کے حالات کے بارے میں آسیان تنظیم کے  رکن ممالک کے دس وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان  میں غزہ کے بےگناہ لوگوں کے خلاف اسرائیل کے وحشیانے حملوں کی مذمت کی ہے ۔

 اس بیان میں عالمی برادری منجملہ سلامتی  کونسل  سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف  اسرائیل کی جارحیت کوختم کرنے ،بین الاقوامی قوانین کے مکمل احترام منحملہ عام شہریوں کے تحفظ اور زخمی ہونے والوں کے کے لئے امداد کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔

اس بیان میں عراق میں  تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے  حالیہ حملوں کی مذمت کی گئی ہے اور  اس تکفیری گروہ کے جرائم  کوعلاقے کے امن واستحکام کے لئے خطرہ قرار دیاگیا ہے ۔

غزہ کے نہتے اور بے دفاع عوام کے خلاف اسرائیل کے وحشیانے حملوں کے پیش نظرآسیان کا اجلاس ایسے وقت منعقد  ہوا ہے کہ اس سے پہلے بھی اس تنظیم کے  بہت سے اراکین  مستقبل میں اسرائیل کے مظالم کی روک تھام کے بارے میں  ضروری تدابیر  اختیارکرنے کامطالبہ کرچکے تھے ۔ 

 اس سے قبل انڈونیشیا کے وزیر خارجہ کے خصوصی نمایندے کہہ چکے تھےکہ اس بات کی ضمانت ہونی چاہئیے کہ اسرائیل کے مظالم وجرائم کا عالمی عدالت میں ضرور جائزہ لیا جائےگا تاکہ مستقبل میں اس قسم کے جرائم  کی  دوبارہ تکرار نہ ہوسکے ۔  بہت  سے خبری حلقوں نے  آسیان کے اجلاس کے اختتامی  بیان کو  علاقے کے لوگوں کےمطالبات کے انعکاس کا نتیجہ قرار دیا ہے ۔ اس لئےکہ آسیان تنظیم رکن ممالک  کے لوگوں نے غزہ کے نہتے اور بے دفاع عوام پر  اسرائیل کے وحشیانے حملوں کے وقت مظاہرہ  کرکے فلسطینیوں خاص طورپر عورتوں اور بچوں کے قتل عام کی  مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کو اصلی دہشت گرد قراردیا اور کہاکہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف مقابلے اور انسانی حقوق   کے دعویدار کی حیثیت سے  اسرائیل کے جرائم کی حمایت کررہا ہے ۔

جنوب مشرقی ایشیا کے غم وغصے میں بھر ے ہوئے لوگوں نے سماجی نٹ ورک  پر  اسرائیل کے مظالم وجرائم سے متعلق خبریں شائع کرکے اسرائیل کےحملوں کو روکنے اوراس کی مصنوعات پر پابندی  لگانے کامطالبہ کیا ہے  ۔

چنانچہ آسیان تنظیم کے اختتامی  بیان میں علاقے میں تکفیری گروہ کی سرگرمیوں کے  پھیلنے کی بابت بھی تشویش کا  اظہار کیا  گیا ہے ۔ انڈونیشیا میں علماء کونسل نے  جو اس ملک  کا اعلی ترین اسلامی مرکز شمارہوتی ہے  اس سے پہلے ایک  بیان شائع  کرکے تاکید کی تھی اورعراق اور شام میں انتہا پسند گروہوں کے ساتھ مسلمانوں  کی شرکت کو حرام قرار دیا تھا ۔ انڈونیشا میں علماءکونسل کے اعلی عہدیدار معروف امین  نےاعلان کیاہے کہ انتہاپسند تکفیری گروہ  داعش کے ساتھ کام کرنا  یا اس گروہ  کی سرگرمیوں میں شریک ہونا  حرام ہے ۔ معروف امین نے کہا ہےکہ  گروہ داعش  کاعراق وشام میں خلافت  اسلامی قائم کرنے کا مقصد اسلامی تعلمیات کے  منافی ہے کیونکہ داعش  کے اقدامات تشدد ،مسلمانوں  کا قتل، مذھبی مقامات کی تخریب  کےساتھ یہ گروہ اپنے مفادات کا تسلط چاہتاہے ۔

 

 

sharethis اسرائیل کی مذمت میں آسیان کابیان

جواب ارسال کریں

آپ کا ای میل (نشر نہیں کیاجاٗے گا).
لازمی پر کرنے والے خانوں میں * کی علامت لگا دی گئی ہے.

*


− 5 = سه

رابطہ کیجیے | RSS |نقشہ سائٹ

اس سائٹ اسلام ۱۴ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں،حوالے کے ہمراہ استفادہ بلامانع ہے