یادداشت

زیادہ دیکھے گئے موضوعات

ہم سے تعاون کریں

تکفیریت کے خلاف بین الاقوامی کانفرنس میں عالم اسلام کو درپیش مشکلات کا جائزہ

“عالم اسلام کے علماء کی نظر میں انتہا پسند تکفیری گروہوں کے خطرات” کے زیرعنوان ایران کے مقدس شہر قم میں منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس مختلف اسلامی مکاتب کے علماء کی تقریروں اور ممتاز مقالات پیش کرنے والے مفکرین کی تجلیل و قدردانی کے ساتھ پیر کے روز اختتام پذیرہو گئی۔

اس دو روزہ کانفرنس میں اسلامی ایران کے علاوہ دنیا کے تراسی ملکوں سے بہت سے شیعہ و سنی علماء نے شرکت کی اور تکفیری گروہوں کے ظہور کے اسباب، عالم اسلام کو درپیش مشکلات اور موجودہ بحرانوں سے نمٹنے کے طریقۂ کار کا جائزہ لیا گیا۔

حوزہ علمیہ قم کی اعلی کونسل کے سیکرٹری جانب آیۃ اللہ مرتضی مقتدائی نے اس عالمی کانفرنس میں شریک حضرات سے اپنے اپنے حلقوں اور علاقوں میں اس کانفرنس کے انعقاد کے اہداف و مقاصد اور ثمرات و نتائج بیان کرنے کی در خواست کی۔ انہوں نے کہا کہ قم المقدسہ میں منعقدہ اس کانفرنس میں وسیع پیمانے پر شیعہ و سنی علماء کا اجتماع اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ علمائے دین کے درمیان اس بات پر اتحاد پایا جاتا ہے کہ جو کچھ تکفیری گروہ اور داعش کے دہشت گرد اسلام کے نام سے پیش کر رہے ہیں وہ اس کو مسترد کرتے ہیں اور لوگوں کو جان لینا چاہیے کہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ایران میں تمام دینی درس گاہوں یعنی حوزہ ہائے علمیہ کے ناظم الامور آیۃ اللہ حسینی بوشہری نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تمام تکفیری گروہ دشمنان اسلام کے آلۂ کار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ جان بوجھ کہ دشمنوں کی خدمت کر رہے ہیں  جبکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ دشمن مسجد الاقصی کے انہدام کی فکر میں ہے۔ فلسطینی بچے اور عورتیں شہید ہو رہی ہیں پھر بھی یہ تکفیری گروہ اسرائیل کے خلاف کسی ردعمل کا اظہار نہیں کر رہے ہیں۔

عالم اسلام کے امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر آیۃ اللہ تسخیری نے بھی اس عالمی کانفرنس کے انعقاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تکفیری گروہوں کا اصل مقصد ملت کو اسلام سے جدا کر دینا ہے یہ لوگ خود اسلام پر سوالیہ نشان لگانے کی فکر میں ہیں اور مسلمانوں کو ہوشیار ہو جانا چاہیے۔

بین الاقوامی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ تکفیری گروہوں نے دنیا کی نظروں میں اسلام کا چہرہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے، اس گروہ کے اقدامات کو عالم اسلام کے لیے نقصان دہ اور مسلمانوں کی بھلائی کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج اسلام دشمن قوتیں اسلام کو بدنام کرنے کے لیے تکفیری گروہوں کے وحشیانہ اور انسانیت سوز اقدامات کا اس طرح پروپیگنڈا کر رہی ہیں کہ جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

قفقاز کے مسلمانوں کے عالمی ادارے کے سربراہ اللہ شکور پاشا زادہ نے بھی آج عراق اور دنیا کے دوسرے تمام ملکوں کو درپیش داعش کے وحشیانہ خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انسانوں کے قتل اور اسلامی شعائر و مقدسات کی پامالی کے مقابلے میں مسلمان ہرگز خاموش تماشائی نہیں رہ سکتے۔

اسی طرح لبنانی عالم شیخ حسن المصری نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ آج عالم سخت مسائل و مشکلات کا شکار ہے، کہا کہ اسلامی امہ اندرونی اور بیرونی مشکلات سے دوچار ہے اور دشمنان اسلام کی دھمکیوں اور خطرناک عزائم کے مقابلے میں صرف اور صرف باہمی اتحاد و یکجہتی کے ذریعے ہی اسلامی تہذیب و تمدن کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔

sharethis تکفیریت کے خلاف بین الاقوامی کانفرنس میں عالم اسلام کو درپیش مشکلات کا جائزہ

جواب ارسال کریں

آپ کا ای میل (نشر نہیں کیاجاٗے گا).
لازمی پر کرنے والے خانوں میں * کی علامت لگا دی گئی ہے.

*


8 × = هشت

رابطہ کیجیے | RSS |نقشہ سائٹ

اس سائٹ اسلام ۱۴ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں،حوالے کے ہمراہ استفادہ بلامانع ہے