یادداشت

زیادہ دیکھے گئے موضوعات

ہم سے تعاون کریں

حضرت خدیجۃ الکبریٰ


حضرت خدیجۃ الکبریٰ

( ۰ Votes ) 

grey حضرت خدیجۃ الکبریٰ

رمضان المبارک کی دسویں تاریخ ایک تلخ اور ناگوار واقعہ کی یاد دلاتی ہے ۔آج کے دن دنیا سے ایک جانثار زوجہ اور مہربان ماں حضرت خدیجہ (س) کی وفات کا دن ہے۔آپ نے اسلام کے لئے بہت زیادہ زحمتیں برداشت کیں ۔مسلمانوں پرآپ کا بڑا احسان ہے ۔
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ کی پہلی زوجہ اور پہلی مسلمان خاتون ہیں ، آپ حسب ونسب اور گھرانے کے لحاظ سے جزیرۃ العرب کی ایک ممتاز خاتون تھیں اور ازنظر کمال وجمال آپ اپنےزمانے کی خواتین کی سردار تھیں۔
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا ایک پاکیزہ طینت خاتون تھی اور جوانی کے دور میں اپنے زمانے میں سرزمین حجاز کی مشہور ترین تاجروں میں آپ کا شمار ہوتا تھا آپ تجارت میں اپنی اعلی انسانی خصوصیات وصفات کے مطابق عمل کرتی تھیں ۔ آپ مفاد پرستی کی مخالف تھیں اور کبھی بھی حریصانہ عمل انجام نہیں دیا ۔اسی لئے آپ نے ہمیشہ آلودگیوں اور ناجائز آمدنیوں سے عاری تجارت کرنے کی کوشش کی ۔ آپ کی انسانی خصوصیات اور منطقی روش اور معقول رفتار و کردار کے باعث مختلف طبقات کے لوگ آپ پر اعمتاد کرتے تھے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے اپنے بے پناہ مال و ثروت کے ساتھ جہاں تک ہوسکا غریبوں اور یتیموں کی مدد کی اور آپ بے سرپرست گھرانوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں یہاں تک کہ آپ کو غریبوں اور یتیموں کی ماں کہا جاتا تھا ۔سخاوت، دوراندیشی ، عفت و پاکدامنی اور درایت نے آپ کو ایک ممتاز اور محترم خاتون میں تبدیل کردیا تھا اوراس زمانے میں قریش کی عورتوں میں آپ کو خواتین کا سردار کہا جاتاتھا جس سے لوگوں کے درمیان آپ کے اعلی مقام ومنزلت کی نشاندہی ہوتی ہے۔
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے جب امانتداری، خوش خلقی اور محمد امین کے لقب سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہرت سنی تو آپ کو اپنے تجارتی قافلے میں کام کرنے کے لئے انتخاب کیا اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کو تجارت میں بہت زیادہ فائدہ ہونے لگا ۔
قریش کے امیر ترین لوگوں کی طرف سے شادی کے پیغامات کے آنے کے باوجود چونکہ آپ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت و امانتداری، مکارم اخلاق اور معنویت پر فریفتہ ہوچکی تھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کرنے کی تجویز پیش کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی آپ کی تجویز قبول کرلی ۔مکہ کی عورتوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کے بعد آپ سے تعلقات ختم کردئیے اور اور آپ کو تنہا چھوڑدیا ،آپ نے ایک دن قریش کی تمام عورتوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے قریش کی عورتوں سے سنا ہے کہ تمہارے شوہر مجھے برا بھلا کہتے ہیں کہ میں نے محمد (ص)سے کیوں شادی کی ہے۔ میں اب تم لوگوں سے پوچھتی ہوں کہ کیا تم حسن و جمال، خوش خلقی نیک اور پسندیدہ خصوصیات اور حسب ونسب کے لحاظ سے فضل و شرف میں محمد (ص) سے بہتر کسی کو جانتی ہو؟ اگرچہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے اس طرح کے سوالات کرکے قریش کی عورتوں کو سمجھا دیاکہ محمد (ص) کے برابر اور ہم پلہ کوئی بھی نہیں ہے لیکن آپ ان کے دلوں پر لگے ہوئے جہالت کے زنگ کو پاک نہیں کرسکیں لیکن ان کے رفتار و کردار میں نمایاں تبدیلی کردی۔
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہلی زوجہ تھیں جب تک حضرت خدیجہ زندہ تھیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری شادی نہیں کی ۔حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا سے قاسم اور عبداللہ کے نام سے دو بیٹے پیدا ہوئے جن کا بعثت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم سے پہلے ہی انتقال ہوگیا اور ایک بیٹی کی ولادت ہوئی جو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے نام سے معروف اور دنیا کی تمام عورتوں کی سردار ہیں ۔
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا عالم اسلام کی بزرگترین خاتون شمار ہوتی ہیں وہ سب سے پہلے اسلام لانے والی خاتون تھیں جس طرح سے امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب (ع) مردوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے تھے حضرت خدیجہ کی عظمت وشرافت کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ تھیں اور اسلام کے فروغ کے لئے ان کا مال اہم ترین سبب شمار ہوتاہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی کہتے ہیں کہ ایک دن رسول خدا (ص) نے زمین کے اوپر ایک لکیر کھینچی اور فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ جو لوگ وہاں موجود تھے وہ نہیں بتاسکے سب نے کہا کہ خدا اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے ۔ اس کے بعد رسول خدا (ص) نے فرمایا کہ بہشت کی بہترین عورتیں چار ہیں میری زوجہ خدیجہ ، میری بیٹی فاطمہ (س)فرعون کی زوجہ آسیہ ۔ اور حضرت عیسی(ع) کی ماں حضرت مریم (س) ۔
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا ایک فداکار و مہربان زوجہ اور تمام مشکلات میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بہترین یاور و مددگار تھیں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں آپ کے پرمعنی و فصیح اشعار سے آپ کے علم ادب اور پیغمبر اکرم (ص) سے آپ کے کمال محبت والفت کی نشاندہی ہوتی ہے ۔پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں آپ کے اشعار کے بعض نمونوں کے ترجمہ کی طرف اشارہ کررہے ہیں جس میں آپ فرماتی ہیں کہ اگر دنیا کی تمام نعمتیں میرے لئے ہوں اور ملک و کسری اور بادشاہت میرے لئے ہو تو میری نظر میں ان کی اس وقت تک کوئی اہمیت نہیں ہے جب تک میری نظریں آپ کی نظروں سے مل نہیں جاتیں ۔ حضرت خدیجہ باکمال باشخصیت اور بافضیلت خاتون تھیں اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دیگر ازواج میں سب سے ممتاز تھیں آنحضرت (ص) آپ کو بہت زیادہ چاہتے تھے ۔مورخین ام المومنین حضرت عائشہ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ کہتی تھیں کہ مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا تھا کہ آنحضرت خدیجہ سے اس قدر کیوں مجبت کرتے ہیں اور انھیں زیادہ کیوں یاد کرتے ہیں ؟ ایک دن مجھ سے صبر نہ ہوسکا اور میں نےآنحضرت (ص) سے کہہ دیاکہ وہ ایک بوڑی عورت کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھیں خدا نے آپ کو ان سے بہتر زوجہ عطا کی ہے میری باتوں سےآنحضرت بہت زیادہ رنجیدہ ہوئے کہ آپ کے چہرے سے غصے کے آثار نمایاں ہوگئے ۔ آپ نے فرمایا ایسا نہیں ہے ہرگز خدیجہ سے بہتر مجھے کوئی زوجہ نہیں ملی ہے خدیجہ میرے اوپر اس وقت ایمان لائیں جب تمام لوگ کفر و شرک کی زندگی گذار رہے تھے انہوں نے بدترین حالات و مشکلات میں میری مالی مدد کی اور اپنی پوری دولت میرے حوالے کردی خدا نے ان سے مجھے ایسی اولاد عطا کی جو میری دوسری بیویوں کو عطا نہیں کی ۔
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پچیس برس کی مشترکہ زندگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلام کے لئے بہت زیادہ خدمات انجام دیں آنحضرت (ص) کی مالی اور نفسیاتی حمایت کی اور آپ کی اس وقت تصدیق کی جب کوئی بھی آپ کی تصدیق نہیں کرتا تھا اور مشرکین کی اذیتوں کے مقابلے میں آپ کی مدد کی جو آپ کی گرانقدر خدمات کا ایک صرف ایک حصہ ہے ۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم جب گھر سے باہر سماج میں اہم خدمات اور سرگرمیوں میں مشغول تھے اور عظیم مقاصد جیسے لوگوں کی ہدایت و قیادت کررہے تھے اور کفار فریش آپ کو ستارہے تھے تو اس وقت آپ کو قلبی اور ذہنی سکون اور آپ کی مشکلات کو دور کرنے میں آپ کی دردمند اور ہوشیار زوجہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا پیش پیش ہوتی تھیں اور آپ کی بھر پور حمایت کرتی تھیں۔معروف مورخ ابن اسحاق لکھتے ہیں کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی تکذیب کے بارے میں قوم کی ان باتوں کو نہیں سنتے تھے جن سے آپ کو تکلیف واذیت ہوتی تھی مگر یہ کہ خداوندمتعال حضرت خدیجہ کے ذریعے آپ کے غم واندوہ کو برطرف کردیتا تھا حضرت خدیجہ آپ کے غم کو ہلکا کردیتی تھیں اور آپ کی تصدیق کرتی تھیں اور لوگوں کے رفتار و کردار کو اہمیت نہیں دیتی تھیں ۔
مصر کی معروف محقق محترمہ ڈاکٹر بنت الشاطی بھی کہتی ہیں کہ کیا حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے علاوہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی دیگر بیویوں میں یہ استعداد وصلاحیت پائی جاتی تھی کہ انھوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاریخی دعوت کا جب آپ غار حراسے تشریف لائے تو حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی طرح قوی ایمان اور محبت کے ساتھ استقبال کیا ہو انھیں یقین تھا کہ خداوندمتعال اپنے پیغمبر اکرم کو ہرگز اکیلا اور تنہا نہیں چھوڑے گا۔انہیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا آپ کے پیغام کے بارے میں ذرہ برابر بھی شک وشبہ نہیں ہوا ؟ کیا حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے علاہ کوئی اور ثروتمند خاتون جس نے ناز و نعمت میں زندگی گزاری ہو وہ حضرت خدیجہ کی طرح خوشی کے ساتھ امیرانہ اور باعزت واحترام زندگی سے چشم پوشی کرکے اپنے شوہر کے ساتھ زندگی کے سخت اور دشوارترین لمحات گزار سکتی تھی اور مشکلات میں اپنے شوہر کی مدد کرسکتی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں یہ صرف حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا ایسی خاتون تھیں دیگر عورتیں ان کی طرح سے نہیں تھیں لیکن حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا جوہر بھی تھیں اور جوہر شناس بھی تھیں اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا جیسی یگانہ عالم ہستی کی تربیت کرنے والی تھیں ۔حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی فضیلت کے لئے بس یہی کافی ہے کہ ان کے نواسے آسمان علم و فضیلت اور آزادی کے درخشاں ستارے بن گئے ۔ بلاشبہ اسلام کی ترقی اور فروغ میں آپ کا عظیم کردار رہا ہے حضرت خدیجہ جیسی اہم اور ممتاز شخصیت نہ صرف عورتوں کے لئے نمونہ کامل ہیں بلکہ انسانیت کے لئے نمونہ عمل شمار ہوتی ہیں ۔
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی حضرت ابوطالب علیہ السلام کی وفات کے کچھ ہی دنوں بعد دس رمضان المبارک بعثت کے دسویں برس میں وفات ہوئی ہے ۔ اس سال کو عام الحزن یعنی (غم واندوہ) کا سال کہا جاتاہے ۔ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی پینسٹھ برس کی عمر میں وفات ہوئی اس وقت آپ کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پانچ برس کی تھیں ۔حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جب حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی وفات ہوئی تو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پریشان تھیں اور اپنے پدر بزرگوار کے گردگریہ وزاری کے ساتھ چکر لگا کراپنے والد سے ماں کے بارے میں پوچھ رہی تھیں ،حضرت فاطمہ اتنی زیادہ پریشان تھیں کہ جبرئیل پیغمبر اکرم (ص) پر نازل ہوئے اور فرمایا کہ اے رسول فاطمہ کو سلام پہنچادیجئیے اور کہہ دیجئیے کہ آپ کی والدہ بہشت میں حضرت آسیہ اور حضرت عمران کی بیٹی حضرت مریم کے پاس بیٹھی ہیں جب حضرت فاطمہ نے یہ سنا تو وہ خاموش ہوگئیں۔
حضرت خدیجہ کی قبر مطہر مکہ میں قبرستان حضرت ابوطالب میں ہے جس میں حضرت عبدالمطلب حضرت ابوطالب اور حضرت عبد مناف بھی دفن ہیں ۔
http://urdu.irib.ir/2010-06-28-08-41-22/%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA/item/55183-%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA-%D8%AE%D8%AF%DB%8C%D8%AC%DB%81-%D8%A7%D9%84%DA%A9%D8%A8%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA-%D8%B7%DB%8C%D8%A8%DB%81-%D9%BE%D8%B1-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%86%D8%B8%D8%B1

تبصرہ شامل کریں











grey حضرت خدیجۃ الکبریٰ
ریفرش


sharethis حضرت خدیجۃ الکبریٰ

جواب ارسال کریں

آپ کا ای میل (نشر نہیں کیاجاٗے گا).
لازمی پر کرنے والے خانوں میں * کی علامت لگا دی گئی ہے.

*


+ دو = 11

رابطہ کیجیے | RSS |نقشہ سائٹ

اس سائٹ اسلام ۱۴ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں،حوالے کے ہمراہ استفادہ بلامانع ہے