یادداشت

زیادہ دیکھے گئے موضوعات

ہم سے تعاون کریں

یوم ولادت باسعادت حضرت امام جعفر صادق علیه السلام

ستره ربیع الاول فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیه السلام کی ولادت باسعادت کی تاریخ هے۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار کی شہادت کے بعد اکتیس سال کی عمر میں ایک سو چودہ ہجری قمری کو عوام کی ہدایت و رہنمائی کا فریضہ سنبھالا اور منصب امامت پر فائز ہوئے آپ کا دور امامت چونتیس برسوں پر محیط ہے۔ جب آپ منصب امامت پر فائز ہوئے تو امویوں اور عباسیوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی جاری تھی جس کی بناپر اموی حکمرانوں کی توجہ خاندان رسالت سے کسی حد تک ہٹ گئی اور خاندان رسالت کے افراد نے امویوں کے ظلم و ستم سے کسی حد تک سکون کا سانس لیا ۔

 اسی دور میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے اسلامی تعلیمات کی ترویج کے لئے بے پناہ کوششیں انجام دیں اور مدینے میں مسجد نبوی اور کوفہ شہر میں مسجد کوفہ کو یونیورسٹی میں تبدیل کردیا جہاں آپ نے ہزاروں افراد کی تربیت کی اور ایک عظیم علمی و فکری تحریک کی بنیاد ڈالی اس تحریک کو خوب پھلنے پھولنے کے مواقع ملے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ‌زمانہ علوم و فنون کی توسیع اور دوسری ملتوں کے عقائد و نظریات اور تہذیب و ثقافت کے ساتھ اسلامی افکار و نظریات اور تہذیب و ثقافت کے تقابل اور علمی بحث و مناظرے کے اعتبار سے خاص اہمیت کا حامل ہے ۔ اسی زمانے میں ترجمے کے فن کو بڑی تیزی سے ترقی حاصل ہوئی اور عقائد و فلسفے دوسری ‌زبانوں سے عربی میں ترجمہ ہوئے ۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا زمانہ تاریخ اسلام کا حساس ترین دور کہا جاسکتاہے ۔ اس زمانے میں ایک طرف تو امویوں اور عباسیوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی جاری تھی اور دوسری علویوں کی بھی مسلح تحریکیں جاری تھیں۔ آپ نے ہمیشہ عوام کو حکمرانوں کی بدعنوانیوں اور غلط حرکتوں نیز غیراخلاقی و اسلامی سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور  لوگوں کے عقائد و افکار کی اصلاح اور فکری شکوک و شبہات دور کرکے اسلام اور مسلمانوں کی فکری بنیادوں کو مستحکم کرنے کی کوشش کی اور جعفری مذہب کے نام سے شہرت اختیار کرلی۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے جتنی احادیث راویوں نے نقل کی ہیں اتنی کسی اور امام سے نقل نہیں کیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے کسب فیض کرنے والے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جن میں ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں ۔ آپ کے ممتاز شاگردوں میں ہشام بن حکم، محمد بن مسلم ، ابان بن تفلب ، ہشام بن سالم ، مفصل بن عمر اور جابربن حیان کا نام خاص طور سے لیاجا سکتاہے ۔ ان میں سے ہر ایک نے بڑا نام پیداکیا مثال کے طور پر ہشام بن حکم نے اکتیس کتابیں اور جابربن حیان نے دو سو ‌زائد کتابیں مختلف علوم و فنون میں تحریر کی ہیں ۔ جابربن حیان کو علم کیمیا میں بڑی شہرت حاصل ہوئی اور وہ بابائے علم کیمیا کے نام سے مشہور ہیں ۔

 اہل سنت کے درمیان مشہور چاروں مکاتب فکر کے امام بلاواسطہ یا بالواسطہ امام جعفر صادق علیہ السلام کےشاگردوں میں شمار ہوتے ہیں خاص طور پر امام ابوحنیفہ نے تقریبا” دوسال تک براہ راست آپ سے کسب فیض کیا ۔ آپ کے علمی مقام کا اعتراف کرتے ہوئے امام ابوحنیفہ نے کہاہے : ” میں نے جعفر ابن محمد سے زیادہ پڑھا لکھا کوئی اور شخص نہیں دیکھا۔” ایک اور مقام پر امام ابوحنیفہ نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں گزارے ہوئے دو سالوں کے بارے میں کہا :
لولا السنتان ۔ لھک نعمان
اگر یہ دوسال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہوجاتا
امام جعفر صادق علیہ السلام کی سیرت اور اخلاقی کمالات کے بارے میں مورخین نے بہت کچھ لکھاہے ۔
آپ کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ آپ لوگوں کے ساتھ انتہائی محبت اور مہربانی کے ساتھ پیش آتے تھے اور حاجت مندوں کی ضرورتوں کو پورا کیا کرتے تھے اور لوگوں کو بھی اپنی باتوں کی نصیحت کرتے تھے ۔ آپ فرماتے ہیں : اپنے رشتے داروں کے ساتھ احسان کرو اور اپنے بھائیوں کے ساتھ نیکی کرو چاہے وہ سلام کرنے یا خندہ پیشانی کے ساتھ سلام کا جواب دینے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو ۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کی ‌زندگی کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتاہے ۔ پہلا دور وہ ہے جو آپ نے اپنے دادا امام زین العابدین علیہ السلام اور والد امام محمد باقر علیہ السلام کے زیر سایہ گزارا یہ دور سن تراسی ہجری سے لے کر ایک سو چودہ ہجری قمری تک پھیلا ہوا ہے ۔ دوسرا دور ایک سو چودہ ہجری سے ایک سو چالیس ہجری قمری پر محیط ہے اس دور میں امام جعفر صادق علیہ السلام کو اسلامی علوم و معارف پھیلانے کا بھرپور موقع ملا جس سے آپ نے بھرپور فا‏ئدہ اٹھایا ۔

اس دور میں آپ نے چارہزار سے زائد شاگردوں کی تربیت کی اور مکتب شیعہ کو عروج پر پہنچایا ۔ تیسرا دور امام کی آخری آٹھ سال کی زندگی پر مشتمل ہے ۔ اس دور میں آپ پر عباسی خلیفہ منصور دوانیقی کی حکومت کا سخت دباؤ تھا اور آپ کی ہر قسم کی نقل و حرکت پر مستقل نظر رکھی جاتی تھی ۔ عباسیوں نے چونکہ خاندان پیغمبر کی حمایت و طرفداری کے نعرے کی آڑ میں اقتدار حاصل کیا تھا شروع شروع میں عباسیوں نے امام علیہ السلام پر دباؤ نہیں ڈالا اور انہیں تنگ نہیں کیا لیکن عباسیوں نے آہستہ آہستہ اپنے قدم جمانے اور اقتدار مضبوط کرنے کے بعد امویوں کی روش اپنا لی اور ائمہ معصومین علیہم السلام اور ان کے محبین کو تنگ کرنے اور ان پر ظلم و ستم کرنے کا سلسلہ شروع کردیا اور اس میں وہ امویوں کو بھی پیچھے چھوڑ گئے۔


رہبر اسلام و مسلمین حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای دام ظلہ اپنی کتاب ” پیشوائے صادق ” میں خلفائے بنی امیہ اور بنی عباس کے دور میں اسلامی علوم کے  تعلق سے درباری علماء کی انحرافی تشهیرات کے مقابل امام علیہ السلام کی علمی کاوشوں کو دوعنوانوں میں تقسیم کیا ہے ۔ پہلا عنوان ہے مسئلۂ امامت کی تشریح و تبلیغ اور دوسرا عنوان ہے اہلبیت علیہم السلام کی روش پر قرآن کی تفسیر اور احکام کی تفصیلات” ۔

: آپ فرماتے ہیں ”  حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے زمانے کے وسیع ترین علمی و فقہی مراکز میں سے ایک عظیم مرکز کے بانی تھے ۔ آپ کی زندگی کامطالعہ کرنے والوں کی نظر سے ایک مسئلہ جو یکسر پوشیدہ رہ گیا ہے اس سلسلے میں آپ کی سیاسی مفہوم کی حامل وہ تنقیدی روش ہے ۔   عرض کردیں کہ اسلام میں خلافت، دوسرے تمام حکومتی طریقوں کی نسبت ، اس اعتبار سے الگ ہے کہ یہ صرف ایک سیاسی منصب نہیں ہے بلکہ یہ ایک مذہبی ۔سیاسی  قیادت ہے اسلام میں خلیفہ پیغمبر (ص) کا جانشین شمار کیا جاتا ہے جو دین لانے اوراخلاق کی تعلیم دینے کے ساتھ ہی عالم اسلام کے سیاسی حاکم اور رہبر بھی تھے ۔

اسلام میں خلیفہ سیاست کے علاوہ لوگوں کے دینی امور کا کفیل اور مذہبی پیشوا بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے صدراول سے ہی خصوصا حضرت علی اور امام حسن علیہما السلام کے بعد سلسلۂ خلافت میں آنے والے حکام نے کہ جن کی دینی آگاہی یا تو بہت کم تھی یا وہ اس سے بالکل بے نصیب تھے، کوشش کی کہ اپنے درباروں میں دینی شخصیتوں کو ملازم رکھ کر اس کمی کو پورا کریں لہذا بہت سے نام نہاد زرخرید علماء فقہا مفسرین و محدثین درباروں سے وابستہ ہوگئے اور انہوں نے خلیفہ کے دربار کو ” دین اور سیاست کا مجموعہ ” ظاہر کرنے کی کوشش کی اس کا سب سے بڑا فائدہ ظالم حکمرانوں کو یہ تھا کہ وہ اپنی مصلحتوں کے مطابق دینی احکام میں تغیر اور تبدیلی پیدا کرکے اس کو استنباط اور اجتہاد کا نام دیدیا کرتے تھے۔”

رہبر انقلاب اسلامی فرماتے  هیں بنوامیہ کے آخری اور بنی عباس کے ابتدائی دور میں بہت سے فقہا ایسے بھی تھے کہ جنہوں نے بدعت آمیز طریقوں منجملہ قیاس اور استحسان سے کام لیکر اسلامی احکام اپنی طبیعت کے مطابق جو در اصل ظالم حکام کی خواہش کی ترجمانی کرتے تھے صادر کردئے تھے عینا” یہی کام قرآن کی تفسیر کے بارے میں بھی کیا گیا اور اس طرح فقہ و حدیث و تفسیر دو بڑی روشوں اور لہروں میں تقسیم ہوگئیں ۔ ایک ظالم حکومتوں سے وابستہ دربار کی روش اور ایک حقیقی الہی و محمدی (ص) روش کہ جس کی نمائندگی اہلبیت رسول (ص) انجام دے رہے تھے۔ لہذا اس دور میں ” فقہ جعفری ” کی اصطلاح اس زمانے کے سرکاری و درباری فقہا کے مقابلے میں استعمال ہوئی ہے۔ امام صادق علیہ السلام نے اپنے علمی دسترخوان کو وسعت دیکر فقہ ،اسلامی معارف اور قرآن کی تفسیر کے سلسلے میں حکومت سے وابستہ علماء کی روش سے الگ مرسل اعظم(ص) کی روش اپناکر علمی طور پر دربار کے خلاف ایک طرح  کے جہاد کا آغاز کردیا ۔

رہبر انقلاب اسلامی مزید فرماتے ہیں کہ منصور دوانقی نے جو کافی ذہین و زیرک تھا اور جس کی ایک عمر بنوامیہ کے خلاف پیکار میں گزری تھی، اس حقیقت کو درک کرلیا کہ حضرت امام جعفر صادق (ع) نے حکومت کے خلاف بالواسطہ جہاد کا ایک دروازہ کھول دیا ہے لہذا اس نے آپ کے خلاف بڑے وسیع اور غیر محدود پیمانے پر دباؤ اور سختیاں بڑھادیں اور آپ کی علمی و فقہی سرگرمیوں کو کہ جس کا تاریخی کتب میں وسیع پیمانے پر ذکر ہے نظر میں رکھنے کے لئے کافی تگ و دو سے کام لیا۔
اور جب کچھ نہ کرسکا تو بالآخر زہر کے ذریعے آپ کو شہید کردیا ۔

sharethis یوم ولادت باسعادت حضرت امام جعفر صادق علیه السلام

جواب ارسال کریں

آپ کا ای میل (نشر نہیں کیاجاٗے گا).
لازمی پر کرنے والے خانوں میں * کی علامت لگا دی گئی ہے.

*


6 + پنج =

رابطہ کیجیے | RSS |نقشہ سائٹ

اس سائٹ اسلام ۱۴ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں،حوالے کے ہمراہ استفادہ بلامانع ہے