یادداشت

زیادہ دیکھے گئے موضوعات

ہم سے تعاون کریں

دیدگاہ رہبری [انتخابات ، تجلی اعتماد مردم بہ نظام جمہوری اسلامی] شناور

 افکار و نظریات

جمہوری ممالک میں انتخابات میں عوام کی شرکت سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ کسی بھی ملک کے لوگ اپنے ملک کے نظام سے کس قدر محبت اور اس پر اعتماد کرتے ہیں مثلا امریکہ میں ، کہ جو جہموریت اور آزادی کا مدعی ہے، مختلف تشہیراتی امکانات و وسائل کے ذریعے لوگوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو پولنگ اسٹیشنوں تک لانےکی کوشش کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ میں سنہ دو ہزار بارہ کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں ٹرن آؤٹ پچاس فیصد سے بھی کم رہا جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی بات ہی الگ ہے۔ اس جمہوری ملک میں اکثر و بیشتر انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا جاتا ہے اور ہر انتخابات میں عوام کی بھر پور شرکت عوام کی جانب سے اسلامی نظام اور اس کے عظیم مقاصد پر مہر تصدیق کے مترادف ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایران میں ہونے والے گیارھویں صدارتی انتخابات ایرانی عوام کے سیاسی کارنامے کا ایک جلوہ تھے۔  ایران کے دشمنوں نے آخری لمحے تک ایرانی عوام کو ووٹنگ میں حصہ لینے سے روکنے اور نظام پر ان کے اعتماد میں خلل ڈالنے کی تگ و دو کی لیکن ان کو اپنے اس مقصد میں شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ ان انتخابات میں ایرانیوں کی بھر پور شرکت پر پردہ ڈالنے اور اسے نظر انداز کرنے میں  بھی ناکام رہے۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے عوام کو ووٹنگ میں حصہ لینے کی رغبت دلانےمیں اہم کردار ادا کیا۔ آپ نے انتخابات کے انعقاد سے قبل ملک کے سیاسی نظام میں عوام کی بھرپور شرکت پر تاکید فرمائی اور سب کو ووٹنگ میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔ دشمنوں نے انتخابات کے انعقاد سے قبل اپنے تمام تشہیراتی وسائل و ذرائع کو بروئے کار لاکر انتخابات میں دھاندلی اور صدر کے پہلے سے معین ہونے کا پروپیگنڈہ کیا تاکہ ایران کے عوام میں مایوسی پھیل جائے اور وہ یہ خیال کرنے لگیں کہ انتخابات میں شرکت بے معنی ہے۔ لیکن رہبر انقلاب اسلامی کی بصیرت اور نظام پر عوام کا مکمل اعتماد ایک سیاسی کارنامے پر منتج ہوا۔ امریکہ کی سابق وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے رہبرانقلاب اسلامی کے اس مدبرانہ کردارکے بارے میں کہا کہ

  ” ایران کے رہبر ایک گھنٹے کی اپنی تقریر کے ذریعے ان تمام سازشوں کو ناکام بناسکتے ہیں جن کو بہت ذہین افراد طویل مدت کے غور و غوض اور  بہت ساری دولت صرف کر کے تیار کرتے ہیں ”

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اپنی حالیہ تقریر میں صدارتی انتخابات میں عظیم کارنامہ انجام دینے کے سلسلے میں ایران کی عظیم اور بابصیرت ملت کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ان انتخابات کے بارے میں دشمنوں کی سازشوں کا بھی ذکر کیا ۔ رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا ہے کہ دشمن ان انتخابات کے سلسلے میں دو مقصد حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ” یا تو انتخابات منعقد نہ ہوں یا بہت کم لوگ ووٹنگ میں حصہ لیں۔”

آپ کے نزدیک دشمن انتخابات کے بعد بھی ایران میں اپنے مذموم مقاصدکے حصول کے بہانے تلاش کرتے رہے۔  رہبر انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں فرمایا ہے کہ ایک سال قبل سے ہی اسلامی جمہوری نظام کے دشمن انتخابات کے خلاف سازشیں تیار کرنے لگ گۓ تھے، انھوں نے بہت دولت خرچ کی، بہت غور و خوض کیا، مختلف اقدامات انجام دیۓ اور دباؤ ڈالا تاکہ اس واقعے کا رخ اپنی پسند کے راستے کی جانب موڑ سکیں۔ لیکن جو کچھ ہوا وہ ان کے تیار کردہ منصوبوں کے بالکل برعکس تھا۔ ملت ایران نے اپنی عظمت ظاہر کردی،  ایک عظیم کارنامہ انجام دیا ، اس نے بین الاقوامی دشمنوں کے کینے  کے مقابلے میں اپنی مہارت نمایاں کردی”

اتحاد ، ایران کے اسلامی جمہوری نظام پر ایرانی عوام کا اعتماد ، عوام کا باہمی اور اسلامی نظام کے ساتھ اتحاد صدارتی انتخابات میں بھر پور شرکت کے عظیم کارنامے کے اہم ترین اسباب تھے۔ قرآن کریم میں بھی اتحاد کو ہی کامیابی کا راز قرار دیا گیا ہے۔ رسول اکرم ص نے مدینے میں حکومت کی تشکیل کے بعد سب سے پہلا کام جو انجام دیا تھا وہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد قائم کرنے سے ہی عبارت تھا۔ رسول اکرم ص نے اسلام اور توحید کے ذریعے لوگوں میں اتحاد اور ان کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا۔  

                                                                                                    *****

اسلام کے دشمن ہمیشہ سے مسلمانوں کے درمیان اختلافات ڈالنے اور اسلام پر سے ان کا اعتماد ختم کرنے  کے درپے رہے ہیں۔ آج بھی وہ یہ کام انجام دے رہے ہیں۔

امریکہ کی قیادت میں عالمی سامراج اسلامی ممالک خصوصا ایران میں  اختلافات پیدا کرنے کی بہت زیادہ کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ ایران کی اسلامی حکومت پر سے لوگوں کے اعتماد کو ختم کرنے کے درپے ہے لیکن خدا تعالی کے فضل و کرم سے ہر بار اسے منہ کی کھانی پڑی ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے حالیہ انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت کو دشمنوں کی ناکامی کا اصل سبب قرار دیتے ہوئے فرمایا ہےکہ دشمن مدتوں سے انتخابات کی شفافیت کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ کر رہےتھے۔ وہ انتخابات کے منتظمین اور مبصرین کےبارے میں غیر معقول باتیں کرتے تھے تاکہ عوام مایوس ہوجائیں ، ان کے نزدیک انتخابات شکوک وشبہات کا شکار ہوجائیں اور عوام ووٹنگ کے لۓ پولنگ اسٹیشنوں کا رخ نہ کریں۔ لیکن عوام نے اس قدر بھرپور انداز میں انتخابات میں شرکت کی کہ حتی دشمنوں کے ذرائع ابلاغ بھی اس کا انکار اور اسے نظر انداز نہ کرسکے۔

رہبر انقلاب اسلامی کے نزدیک انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت سے  اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ان کو اپنے ملک کی تقدیر سے دلچسپی اور اس پر اعتماد ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں فرمایا ہےکہ عوام اسلامی جمہوری نظام سے ، کہ انتخابات جس کا ایک رکن ہیں، محبت کرتے ہیں ۔ ان کو انتخابات منعقد کرانے والے اداروں پر اعتماد ہے  اور ملک کی مسلسل ترقی و پیشرفت کی امید ہے ۔ عوام کی ہوشیاری اور انتخابات کے سلسلے میں ان کی بصیرت کے علاوہ ان کا اعتماد بھی ایک اہم بات ہے۔ “

رہبر انقلاب اسلامی کا موقف ہے کہ اس نظام پر تنقید کرنے والے افراد  بھی جانتے ہیں کہ اسلامی جمہوری نظام ملک کے مفادات اور قومی وقار کا تحفظ اور اس کا دفاع کرسکتا ہے۔  آپ نے مزید فرمایا ہے کہ ” مختلف ممالک کی حکومتیں بین الاقوامی جارحیتوں اور عالمی لٹیروں کے مقابلے میں اپنی اقوام ، مفادات اور وقار کا دفاع نہیں کرسکتی ہیں۔ لیکن اسلامی جمہوریہ ایک شیر کی طرح پوری ثابت قدمی کے ساتھ دشمنوں کے مقابلے میں ڈٹا ہوا ہے اور اپنی ملت کا دفاع کررہا ہے۔ اس بات کی تصدیق ان افراد نے بھی کردی ہے جو اس نظام کو قبول نہیں کرتے ہیں لیکن انھوں نے انتخابات میں حصہ لیا اوراپنے اس عمل کے ذریعے ثابت کردیا کہ ان کو بھی اسلامی جمہوری نظام پر اعتماد ہے۔ “

ایران کے حالیہ صدارتی انتخابات سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ ایران میں استحکام پایا جاتا ہے اور ایرانی عوام سیاسی بصیرت کی حامل ہے۔  یہ انتخابات پرامن اور صحتمند مقابلے کے ماحول میں منعقد ہوئے۔ انتخابات کے انعقاد کے بعد دوسرے صدارتی امیداروں نے ایران کے منتخب صدر ڈاکٹر حسن روحانی کو کامیابی کی مبارکباد پیش کی اور ان کے ساتھ تعاون کرنے پر اپنی آمادگی کا اظہار کیا۔ انھوں نے اپنے اس عمل کے ساتھ ثابت کردیا کہ صحتمند مقابلے میں دشمنی اور اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور سب کا مقصد عوام کی خدمت ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں صدارتی امیدواروں کی متانت اور ان کی جانب سے قانون کی پابندی کۓ جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

دوسری جانب ایرانی عوام نے بھی ایک دوسرے سے اپنی مسرت کا اظہار کیا۔ کسی کی جانب سے بھی انتخابات کےانعقاد کے عمل اور ان کے نتائج پر اعتراض نہیں کیا گیا۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اس ماحول کو ملک میں امن کا عکاس قرار دیا اور خدا تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وسیع ملک ، اس عریض سرزمین اور ملک بھر کے دسیوں ہزار دیہاتوں اور شہروں میں کوئی ایسا واقعہ بھی رپورٹ نہیں کیا گیا ہے جس سے بدامنی کی نشاندہی ہوتی ہو۔ کیا یہ معمولی بات ہے؟ نعمتان مجھولتان الصحۃ و الامان [ دو نعمتیں ایسی ہیں جن کی قدر نہیں کی جاتی ہے ایک سلامتی اور دوسری امن]“

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں امن کو کسی بھی ملک کی بنیادی ضرورت قرار دیا اور فرمایا کہ  اگر امن قائم ہو تو ملک ترقی و پیشرفت کرتا ہے ، علم ترقی کرتا  ہے ، ملک کی معیشت مضبوط ہوتی ہے اور اس کی تعمیر  ممکن ہوتی ہے۔ ان انتخابات سے ثابت ہوگیا کہ خدا تعالی کے فضل و کرم ، عوام کے تعاون اور حکام کی ہوشیاری  سے سارے ملک میں امن قائم ہے۔ “

انتخابات سمیت مختلف مواقع پر اسلامی نظام پر عوام کا اعتماد کھل کر سامنے آیا ہے جبکہ دشمنوں کو سوائے ذلت و رسوائی کے کچھ نہیں ملا ہے۔ اللہ تعالی نے سورۂ محمد کی آیت نمبر سات میں فرمایا ہے کہ ” اے ایمان والو اگر تم اللہ کی نصرت کرو گے تو وہ تمہاری نصرت کرے گا اور تم کو ثابت قدم بنا دے گا۔ “

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے خدا تعالی کی مدد و نصرت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ” انتخابات کا انعقاد واقعی ایک اہم اور نمایاں عمل تھا۔  اور یہ پروردگار عالم کا فضل ہی تھا جس نے ملت کے دلوں کی رہنمائی کی اور ایرانی عوام نے انتخابات میں بھرپور انداز میں شرکت کر کے یہ کارنامہ انجام دیا۔ “

*****

sharethis دیدگاہ رہبری [انتخابات ، تجلی اعتماد مردم بہ نظام جمہوری اسلامی] شناور

جواب ارسال کریں

آپ کا ای میل (نشر نہیں کیاجاٗے گا).
لازمی پر کرنے والے خانوں میں * کی علامت لگا دی گئی ہے.

*


هشت + = 11

رابطہ کیجیے | RSS |نقشہ سائٹ

اس سائٹ اسلام ۱۴ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں،حوالے کے ہمراہ استفادہ بلامانع ہے