یادداشت

زیادہ دیکھے گئے موضوعات

ہم سے تعاون کریں

یمن۔۔۔ بات صرف اتنی سی ہے

تحریر: نذر حافی

بشکریہ اسلام ٹائمز

 جنگ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کو ماند کر دیتی ہے۔ لڑائی اور خانہ جنگی رشد و ارتقاء کے راستے میں سب سے اہم رکاوٹ ہے۔ کسی بھی قوم میں بیداری اور شعور کو روکنے کا آسان طریقہ خانہ جنگی کا آغاز ہے۔ سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور الشیخ ڈاکٹر صالح عبداللہ بن عبدالعزیز پانچ رکنی وفد کے ساتھ ہنگامی دورے پر پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سعودی وزیر کے دورے کا مقصد یمن کی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی حمایت حاصل کرنے کے لئے راہ ہموار کرنا ہے۔ یاد رہے کہ سعودی عرب کی ڈیڑھ ہزار کلومیٹر طویل سرحد یمن سے ملتی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ یمن کی یہی طولانی سرحد اس ملک کی بدقسمتی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ سعودی عرب کی بے جا مداخلت کے باعث  تقریباً ۲۸ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل جمہوریہ یمن کے اس وقت مجموعی طور پر چار ٹکڑے ہوچکے ہیں۔ ایک حصّے پر حوثی اور صالح عبداللہ کے ساتھیوں نے قبضہ کیا ہے، دوسرا حصہ ہادیوں کے قبضے میں ہے، تیسرے حصّے پر القاعدہ اور انصارالشریعہ کا قبضہ ہے اور چوتھے حصے پر دو علیحدگی پسند گروپوں کے اتحاد سے تشکیل پانے والی جنوبی یمن نامی تحریک قابض ہے۔

اس وقت ایک کمزور یمن، سعودی عرب کی ضرورت ہے اور یمن میں خانہ جنگی دراصل سعودی عرب کی بادشاہت کی بقاء کی جنگ ہے۔ کون نہیں جانتا کہ  اب وہابی، سلفی اور دیوبندی مکتب میں بھی سعودی حکمرانوں کے بارے میں ایک شعوری بیداری کی لہر جنم لے چکی ہے۔ اب نئی نسل ان سلطانوں اور شہزادوں کو ظِلِّ الٰہی سمجھنے کے بجائے اغیار کے پٹھّو سمجھتی ہے۔ جہادِ کشمیر، جہادِ افغانستان اور جہادِ فلسطین  کی ناکامی اور بدنامی کا تمام تر سہرا سعودی عرب کو ہی جاتا ہے۔ سپاہِ صحابہ سے لے کر داعش تک وہ کونسا دہشت گرد گروہ ہے جسے سعودی عرب کی ایما پر قائم نہیں کیا گیا اور ہندوستان سے لے کر امریکہ و اسرائیل سمیت وہ کونسا اسلام دشمن ملک ہے جس سے سعودی عرب کے اچھے روابط نہیں۔

مذکورہ بالا صورتحال میں سعودی حکومت کے لئے ضروری ہے کہ وہ مسلم دنیا کی نوجوان نسل کو مختلف محاذوں پر مشغول رکھے۔ چنانچہ پہلے انہیں جہادِ اسلامی کے نام پر افغانستان و کشمیر میں سرگرم کیا گیا۔ پھر جب ان کی وطن واپسی کا موسم شروع ہوا تو انہی میں سے دہشت گرد ٹولے تشکیل دیئے گئے اور پھر انہیں افغانستان کی داخلی جنگ اور شام کی خانہ جنگی میں دھکیلا گیا۔ جس کے بعد اب یمن میں مسلمان جوانوں کو ایک دوسرے کے مدِّمقابل صف آرا کیا گیا ہے۔ سعودی سلطانوں نے اپنی بادشاہت کا لوہا منوانے کے لئے جہاں جنّت البقیع سمیت مکے اور مدینے میں سینکڑوں مقدّس مقامات کو منہدم کیا وہیں مصر کی الاخوان کو کچلنے کے لئے اپنی توانائیوں کو صرف کیا۔ سعودی حکمرانوں کا یہ شاہی مزاج ہی انہیں بے نقاب کرنے کا باعث بنا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ شاہی انداز میں فیصلے کئے ہیں، اسلامی اقدار کو درہم و دینار میں تولا ہے، اسلامی و دینی جذبات کو اپنے اقتدار کے تحفظ کے لئے استعمال کیا ہے۔ جہاد کو اپنے مخالفین کے خلاف ایک ہتھکنڈہ اور خادم الحرمین شریفین کے لقب کو اسرائیل کے لئے ڈھال بنایا ہے۔

آئے روز بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے لیڈروں کو سزائے موت دی جاتی ہے لیکن سعودی عرب کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ حماس کو خود سعودی عرب نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے، حزب اللہ تو ہے ہی شیعہ ۔۔۔ بحرین کی عوامی تحریک کو کچلنے کے لئے سعودی عرب نے جو کچھ کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، مصر میں اخوان المسلمین کے سربراہ ڈاکٹر محمد مرسی اپنے متعدد ساتھیوں سمیت ابھی تک گرفتار ہیں، ان کے ساتھ سعودی عرب کا رویّہ انتہائی معاندانہ ہے بلکہ مصر میں الاخوان کا تختہ خود سعودی عرب نے ہی الٹایا اور اس وقت یمن میں موثر ترین گروہوں میں سے ایک گروہ الاصلاح ہے جو کہ الاخوان کے تفکر سے بہت قریب ہے اور بعض اطلاعات کے مطابق الاصلاح کو یمنی الاخوان بھی کہا جاتا ہے۔ سعودی عرب کی حکومت یمن کی خانہ جنگی کو بھڑکا کر دراصل “الاصلاح“ کو حوثیوں کے سامنے کھڑا کرنا چاہتی ہے، تا کہ اس طرح الاصلاح (یمنی الاخوان) حوثیوں کے ساتھ مصروف رہے اور سعودی عرب یمن میں اپنے نظریاتی مخالفین کو کھپاتا اور لڑاتا رہے۔

بات صرف اتنی سی ہے کہ سعودی عرب یمنی الاخوان کو مصروف رکھنا چاہتا ہے۔ الاصلاح کی پشت پر دیگر سنّی گروہوں کو تیزی سے اکٹھا کرنے کا کام جاری ہے، تاکہ مسلم دنیا خانہ جنگی میں مبتلا رہے اور بادشاہ رنگ رلیاں مناتے رہیں۔ بات شیعہ، سنّی، وہابی یا دیوبندی کی نہیں بلکہ  سعودی حکمرانوں کے عشرت کدوں کی ماند پڑتی ہوئی رونق کی ہے۔ سعودی حکمرانوں کا مزاج  قطعاً شاہانہ ہے۔ ان کی سیاست کا کسی اسلامی مکتبِ فکر سے کوئی تعلق نہیں۔ افغانستان اور مصر کے بعد یمن میں بھی سعودی عرب کی جانب سے مسلمانوں کے درمیان خانہ جنگی کروانے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سعودی حکومت نے اپنی بقا کے لئے غلط راستوں کا انتخاب کر رکھا ہے۔ سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور کے دورہ پاکستان کے موقع پر اب یہ پاکستان کے دیندار اور باشعور دینی و سیاسی مکاتب فکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ سعودی حکمرانوں کی سیاسی طور پر رہنمائی کریں اور انہیں مزید غلطیاں کرنے سے روکیں۔ ہمیں یمن کی جنگ کو وہابیوں اور شیعوں کے درمیان جنگ قرار دینے کے بجائے یہ سمجھنا چاہیے کہ ملوکیّت و بادشاہت بدمزاج اور بانجھ ہی نہیں ہوتی بلکہ بے دین بھی ہوتی ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ سعودی عرب “یمنی الاخوان“ الاصلاح کو مصروف رکھنا چاہتا ہے۔ اسے کسی دین، مذہب یا فرقے کی پرواہ نہیں۔

 

 

 

sharethis یمن۔۔۔ بات صرف اتنی سی ہے

جواب ارسال کریں

آپ کا ای میل (نشر نہیں کیاجاٗے گا).
لازمی پر کرنے والے خانوں میں * کی علامت لگا دی گئی ہے.

*


7 − = چهار

رابطہ کیجیے | RSS |نقشہ سائٹ

اس سائٹ اسلام ۱۴ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں،حوالے کے ہمراہ استفادہ بلامانع ہے